اسے ببول اور مغیلاں بھی کہتے ہیں یہ درخت چھال دار ہوتے ہیں اور جب یہ چھال اُتاری جاتی ہے تو اس سے رس دار کیمائی مادّہ نکلتا ہے۔ اس درخت کی ایک تاریخ ہے اور انکی زیادہ تر انواع دوا سازی اور مختلف اشیاء کو محفوظ رکھنے میں استعمال ہوتی ہیں۔ پوشیدہ امراض‘کیکر کی کومل پھلیاں جن میں ابھی بیج نہ پڑا ہواتار کر سائے میں خشک کی جاتی ہیں پھر انہیں ہم وزن شکر میں سفوف بنا کر ملا دیا جاتا ہے اس دوا کو چھ گرام مقدار میں روزانہ صبح دودھ کے ساتھ لیا جائے تو چند دن میں مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں ۔ ببول(کیکر) کا درخت سولہ میٹر تک لمبا ہوتا ہے اس کی چھال سیاہی مائل خاکستری اور پھول زرد رنگ کے ہوتے ہیں شاخوں پر کانٹے پائے جاتے ہیں ‘ درخت کے تنے سے ایک لعاب دار مادہ رستا ہے جسے گوند کہتے ہیں ۔شفا بخش اجزاء :۔ کیکر کے پتے چھال ٗ پھلی اور گوند سبھی میں طبی افادیت پائی جاتی ہے پتے اور چھال رطوبتوں کو خشک کرنے اور رستے ہوئے خون کو روکنے میں مفید ہے پھلی سانس کی نالیوں سے بلغی مواد اور ریشہ خارج کرنے میں معاون ہے گوند جلد کی حدت اور سوزش دور کر...
Comments
Post a Comment